آرگیلیسیس مٹی
آرگیلیسیس مٹی کا تعلق ایسی تہہ دار چٹانوں یاٹیلوں سے ہے جو مٹی کے معدنیات پر مشتمل ہوتے ہیں یا ان کی ساخت وافر مقدار میں مٹی کی حامل ہوتی ہے۔ یہ تہ دار چٹانیں گار یا مٹی کے سائز کے نقصان دہ ذرات پر مشتمل ہوتے ہیں۔
استعمالات
یہ مٹی بنیادی طور پر پنجاب میں سیمنٹ کی تیاری کے مرحلے میں ضروری مرکب کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ، یہ صوبہ پنجاب کے اندر عمارتوں کی تعمیر میں استعمال ہونے والی مختلف سائز کی اینٹیں تیار کرنے والے تقریباً 4000 اینٹوں کے بھٹہ یونٹوں میں بھی استعمال ہوتی ہے۔
ذخائر
پنجاب میں مختلف قسم کے اجزاء کی حامل آرگیلیسیس مٹی کے ذخائروافر مقدار میں پائے جاتے ہیں اور یہ بنیادی طور پر پنجاب بیسن کے علاقوں میں دستیاب ایلوویئم کی کھدائی کر کے نکالی جاتی ہے۔
بسالٹ |
اوپر جائیں |
بسالٹ ایلومینیم کا اُصولی کمرشل ذریعہ ہے۔ یہ مجموعی طور پر خام لیٹریٹک ایلومینیم کے حصول کیلئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ یہ کیمیائی فارمولہ AL2O3.2H2O کے مطابق کیمیائی طور پرہائیڈریٹڈ ایلومینا ہے۔ اس کی مخصوص کشش ثقل 2-2.6.ہے۔ اسکی چمک مٹی سے کم اور رنگ سفید سے پیلے، سرمئی اور سرخ میں بدلتے رہتے ہیں۔ قدرتی طور پر بسالٹ درج ذیل دوطرح کی معدنیاتی شکل میں پایا جاتا ہے
• کیمیکل فارمولہ Al (OH) کے ساتھ Gibbsite 3
• Boehmite کیمیائی فارمولے مع AlO (OH)
استعمالات
یہ alum کی تشکیل اور ایلومینا کو نکالنے،ایلومینا/ایلومینیم دھات کی تیاری، ایلومینیم مرکبات، ریفریکٹریز، فرنس لائننگ اورکھرچنے کیلئے خام مال کے طورپر استعمال ہوتا ہے-
ذخائر
کچھ بسالٹ وافر مقدار میں ٹائی ٹنیا کے حامل بسالٹ یعنی سنگ سیاہ سے نکالے جاتے ہیں۔بسالٹ کی،سالٹ رینج کے جنوب میں نیلہ واہن کلر کہار سے کھوڑہ تک کے علاقہ میں شاندار پیداوار ہوتی ہے۔ عام طور پر ایلومینا اور سیلیکا مشرق سے مغرب کے دونوں اطراف ملتا ہے۔ ضلع خوشاب میں زیارت اور پیر سلطان مہدی کے قریب تہہ دار چٹانیں باکسائٹ کے قابل عمل اور اعلیٰ معیار کے ذخائر کی حامل ہیں۔ ڈسٹرکٹ چکوال سلوئی اور پنڈ تکوان میں اسی نوعیت کی چٹانوں کا ایک سلسلہ پایا جاتا ہے۔ کھیری مرات رینج اور کالا چٹا رینج میں پیسولیٹک باکسائٹ کے ذخائر پائے جاتے ہیں۔
آتش فشانی ٹیلہBentonite |
اوپر جائیں |
بینٹو نائٹ بنیادی طور پر فارمولہ(Ca, Mg) O.AI2O3. 5 SiO2 اورa جب 8 ہوتوn H2 Oکے ساتھ مونٹ موریلونائٹ مٹی کے گروہ پر مشتمل ہوتی ہے۔ یہ مضبوط آئن ایکسچینج کی خاصیت کے ساتھ سب مائکروسکوپک دانوں (ایسے دانے جو عام خوردبین سے نظر نہیں آتے) پر مشتمل اور مصنوعی طور پر Na(سوڈیم) سے قابل تبدیل ہوتا ہے۔ یہ مٹی پانی میں پھول جانے کی خاصیت رکھتی ہے۔
استعمالات
بینٹونائٹ کا کمرشل نام سوڈیم مونٹ موریلونائٹ ہے۔ اسے مختلف شکلوں میں مختلف مقاصدکے تحت استعمال کیا جاتا ہے جس میں ; فاؤنڈریوں میں سیلیکا اور دیگرمنرل پینٹ، واٹر پینٹ، پالش، والو گرائنڈنگ پیسٹ، زرعی اسپرے،زرعی فنجی سائیڈ کیڑے مار ادویات، مویشیوں کے جوہڑ، کھانے میں بیریم سلفیٹ کے معائنے کے سلسلے میں ایکس رے، تیل کے کنوؤں کے کیچڑ کی کھدائی، کمزور ریتیلی بنیادوں کی بھرائی، کاسمیٹیکس، مٹی کے پیکس، سن برن پینٹ، چہرے کی کریمیں، فارمیسی، جلد کی سوزش میں مفید سفوف کی تیاری کیلئے استعمال ہونے والا کیلامین، لوشن کولائیڈل آؤڈین کی تیاری، گیلے کمپریسس مرکری اور زنک پیسٹ اور سالوز، بہت زیادہ گندے کپڑے کی دھلائی کیلئے استعمال ہونے والا لانڈری ڈٹرجنٹ، ہینڈ کلینرز، پورٹ لینڈ سیمنٹ، مارٹرز، بٹومینس ایملشن پینٹس، ٹار اور بٹومین روڈ ایملشن، کاغذ سازی میں تیل کیڑے مار ادویات پچ کنٹرول، چینی شہد، پانی صاف کرنے والے ٹیکسٹائل، رنگین موم کی پنسل، سٹیل میں کیمیائی ریت کا فاؤنڈری مولڈنگ میٹریل، لوہے اور غیر آہنی فاؤنڈریز،شامل ہیں۔
ذخائر
اس وقت یہ ضلع جہلم میں جلال پور شریف اور دینہ گاؤں کے قریب پائی جانے والی سیوالک چٹانوں سے نکالا جا رہا ہے۔ ڈسٹرکٹ اٹک میں بھی اس کے ذخائر پائے جاتے ہیں۔ یہ گاؤں ٹین پور کے قریب پبی ہلز کے ریتلے علاقوں میں بھی پایا جاتا ہے۔ تحصیل دینہ، ضلع جہلم میں بینٹونائٹ کے وسیع ذخائر پائے جاتے ہیں۔ تحصیل گوجر خان میں سلطان شہاب الدین غوری کے مقبرے کے قریب کچھ علاقوں میں بینٹونائٹ کے قابل ذکر ذخائر ملتے ہیں۔ ڈی جی خان ڈسٹرکٹ کی کیرتھر ہلز بھی بینٹونائٹ کے وسیع ذخائر کے امکانات پائے جاتے ہیں جنہیں نکالنے کیلئے وسیع پیمانے پر منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔
بلڈنگ میٹریل (عماراتی بجری اور ریت) |
اوپر جائیں |
بلڈنگ میٹریل کو درج ذیل تین اقسام میں تقسیم کیا جا تا ہے:
• آتشی اورمیٹامورفک چٹانیں
• تہہ دار چٹانیں
• بجری اور ریت
ذخائر
عماراتی پتھر
پنجاب میں آتشی اورتہہ دار چٹانیں دستیاب ہیں جو عماراتی پتھر کے طور پر استعمال ہوتی ہیں۔یہ کیرانہ ہلز سرگودھا ٹاؤن سے جنوب کی جانب 12کلو میٹرپر واقع ہیں -اسی نوعیت کی چٹانیں ڈسٹرکٹ ننکانہ میں شا ہ کوٹ سے سانگلا ہلز (ڈسٹرکٹ ننکانہ) اور چنیوٹ (ڈسٹرکٹ جھنگ)تک پھیلی ہوئی ہیں۔
The sequence of intruded by basic igneous rocks of dibasic composition
یہ قدرتی طور پرسرمئی سلیٹ، سرخ اور سرمئی کوارٹزائٹ مع معمولی مقدار میں کونگلومیریٹ پر مشتمل ہوتی ہے۔ یہ تہہ دار چٹانیں اینڈیسائٹ(ایک لمبی چوڑی آتشی چٹان)، راؤ لائٹ (سنگ خارا کے لاوے سے پگھل کر پھر سخت ہو جانے والا پتھر) اور ٹف بیڈز(ٹھوس تہوں) کی تہوں سے جڑی ہوئی ہوتی ہیں۔ اس کی دخول کی ترتیب دو اساسی مرکب کی بنیادی آتشی چٹانوں پر مشتمل ہے۔ اسکے بنیادی بند میں معمولی مقدار میں سونا اور چاندی ہوتی ہے۔ کرانا گروپ کی چٹانیں اس دنیا کے ابتدائی دور کی حامل ہو سکتی ہیں۔ اس علاقے پرعمارتوں اور سڑکوں میں استعمال ہونے والی بجری اور روڑی کے حصول کیلئے چھوٹے اور بڑے کرشنگ پلانٹس لگائے گئے ہیں۔پنجاب میں چونے کا پتھر بکثرت پایا جاتا ہے۔ اس کے صنعتی استعمال کے علاوہ (سیمنٹ مینوفیکچرنگ، چونا سازی، سوڈا ایش مینوفیکچرنگ وغیرہ) اسے پیسائی کے مرحلے کے بعد تعمیراتی مواد کے طور پر بھی بڑے پیمانے پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ مارگلہ کرشنگ چونے کے پتھر کی مارکیٹ کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ اس کے علاوہ اٹک، راولپنڈی، جہلم، چکوال، خوشاب، میانوالی اور ڈی جی خان کے اضلاع سے خام اور پسے ہوئے چونے کے پتھر کو عمارتی پتھر کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
سالٹ رینج میں بالخصوص نصف مشرق کی جانب پائی جانے والی جامنی سینڈسٹون، میگنیشین سینڈ سٹون اور تہہ دار چٹانیں عمارتی پتھر کے طور پر استعمال کے لیے کافی موزوں ہیں۔ میگنیشین سینڈ سٹون کی جوتانہ جہلم کے قریب اور چمل میں کھدائی گئی ہے۔ سالٹ رینج میں اور بھی جگہیں ہیں جہاں روڈ بلاسٹ ایگریگیٹ سٹون وغیرہ کے طور پر استعمال کیلئے مختلف قسم کے چٹانوں کی کھدائی کی گئی ہے۔ایک اور اہم کرشنگ مارکیٹ سخی سرور ڈسٹرکٹ ڈیرہ غازی خان میں پائی جاتی ہے جہاں 50 سے 60کرشنگ یونٹ لگائے گئے ہیں۔یہاں کا میٹریل مٹی میں سرایت شدہ ٹوٹا ہوا چونے کا پتھر ہے۔یہ کرش مارکیٹ تقریباً پورے جنوبی پنجاب کی ضرورت کو پورا کر رہی ہے۔رومین ڈسٹرکٹ اٹک میں پایا جانے والا سلیٹ سٹون بھی عماراتی میٹریل کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔
بجری اور ریت
موسمیاتی اثرات کے تحت سخت چٹانوں سے پتھر اور کنکر ٹوٹ ٹوٹ کر دریاؤں او ر ندیوں میں بہہ جاتے ہیں۔ نیچے گرنے کے اس عمل کے دوران ان کا سائز کم ہو جاتا ہے اور بالآخر یہ ریت/گاد کی صورت میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ ضلع اٹک سروالہ کی بجری بہت مشہور ہے اور یہ ٹیوب ویل(ٹیوبوں کے فلٹر کے اردگرد)میں استعمال ہوتی ہے۔عمومی طور پر ریت کے ساتھ ملی ہوئی بجری پہاڑوں کے دامن کے قریب پائی جاتی ہے۔ خالص ریت پنجاب کے دریاؤں اور ندی نالوں میں وافر مقدار میں پائی جاتی ہے۔ یہ پرانے دریاؤں کے راستوں میں زیر زمین 4 سے 5 فٹ تک بھی مل جاتی ہے۔ لارنس پور کی ریت (ہارو ریت) بہت مشہور ہے۔ بجری اور ریت دونوں کو تعمیراتی مواد کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ ریت کے ٹیلے (ٹبہ ریت) تقریباً پورے چولستان اور تھل کے صحرا میں پائی جاتے ہے لیکن یہ ریت خالص نہیں ہوتی۔ اس ریت کو رسوبی/مٹی والے مواد کے ساتھ ملایا جاتا ہے اور عام طور پر تعمیراتی کاموں یا سڑک کی تعمیر کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔
کیلسائٹ |
اوپر جائیں |
کیلسائٹ زمین کی سطح پر یا اس سے نزدیک ہر طرح کے درجہ حرارت اور پریشر میں کیلشیم کاربونیٹ کی ایک مستحکم قسم ہے۔ یہ عین ممکن ہے کہ ارضیاتی تشکیل کے وقتوں میں تمام دیگر اقسام اس میں تبدیل ہوگئی ہوں۔کیلسائٹ چٹان کی صورت میں ایک وسیع پیمانے پر پائی جانے والی معدنیات ہے، جو چونے کے پتھر اور سنگ مرمر کا اہم جزو اور اِنورٹیبریٹ فوسلز کے خولوں میں عام طور پر پائی جاتی ہے۔
استعمالات
استعمالات
یہ مختلف صورتوں میں مختلف مقاصد کیلئے استعمال ہوتا ہے جن میں بلیچنگ پاؤڈر، ایمونیا، کیلشیم کاربائیڈ، کھادوں، الکوحل، صابن، گلیسرین، گلو، شیشہ، پوٹری، شوگر، وول، ٹینیریز ٹیکسٹائل، بوائلر اور سٹیم پائپ انسولیشن مکسچر، کاسمیٹیکس، بالخصوص فیس پاؤڈر، اینٹی بائیوٹکس وغیرہ کی مینو فیکچرنگ، شامل ہے۔
ذخائر
پنجاب میں اس کے ذخائر چونے کے پتھر میں پڑنے والی دراڑوں کی لائنوں میں ملتے ہیں۔یہ اٹک، راولپنڈی، چکوال، جہلم اور ڈیرہ غازی خان ڈسٹرکٹ میں پائے جاتے ہیں۔ڈسٹرکٹ اٹک کالا چٹا رینج میں کیلسائٹ خالص صورت میں کثرت سے پایا جاتا ہے۔
سیلسٹائٹ |
اوپر جائیں |
سیلسٹائٹ (نمبر شمارایس او 4) سٹرونٹیئم سالٹ کی مینوفیکچرنگ میں استعمال ہونے والے دو سٹرونٹیئم منرلزمیں سے ایک ہے۔اس کی کیمیائی ترکیب سٹرونٹیئم سلفیٹ ہے۔یہ عمومی طور پر خالص ہی ہوتا ہے مگر اس میں کیلشیم، بیریم،آئرن اور سیلیکا کی بہت کم مقدار ہوتی ہے۔
استعمالات
سیلسٹائٹ پاؤڈر کی شکل میں سفید پینٹ میں فلر کے طور پر، بیریشم سلفیٹ کے متبادل کے طور پر، ربڑ فلر کے طور پر، اور تیل کی کھدائی کرنے والی مٹی میں استعمال ہوتا ہے۔ یہ پائیرو الیکٹرکس جیسا کہ ٹریسر گولیوں، ڈسٹریس سگنل راکٹ اور فلئیرز، ملٹری سگنل فلیئرز، ٹرانسپورٹیشن وارمنگ فیوز، اور آتش بازی میں استعمال ہوتا ہے۔اس کے دیگر استعمال میں سیرامکس، کیمیکلز، ڈیپیلیٹریز، کاسٹک سوڈا ریفائننگ، ڈی سلفرائزنگ سٹیل، ڈائی الیکٹرکس، گریسیں،لیومینیس پینٹ، پلاسٹک اور ویلڈنگ راڈ کوٹنگز شامل ہیں۔ سٹرونٹیم نمکیات بیٹ۔شوگر مولسیس کو صاف کرنے اور دھات کاری میں صاف کرنے والے بہاؤ کے طور پر بھی استعمال ہوتے ہیں۔
ذخائر
سیلسٹائٹ دو طرح کے بنیادی ذخائر میں پائی جاتی ہے
-
• شیل، چونے کے پتھر اور ڈولومائٹس میں کرسٹل یا فاسد اناج کے طور موجود ہوتی ہے
• چٹانوں میں دراڑیں اور خلامختلف ادوار کے ہیں لیکن اصل میں یہ تہہ دار چٹانیں ہیں
سیلسٹائٹ کے زیادہ تر معروف ذخائردرج ذیل قسم کے ہیں۔
پنجاب میں، سیلسٹائٹ داؤد خیل کے مشرق اور شمال مشرق میں تین سے چار میل کی لمبائی کے اندربے ترتیب دھاروں کی شکل میں پایا جاتا ہے(32, 35’N: 71, 35’E) (Heron. 1954. P 24) ۔ تین سے چار فٹ موٹی اور چار انچ قطر کی حامل ان چٹانوں میں معدنیات بے ترتیب دھاروں کے اندر جھرمٹ کی شکل میں ہوتے ہیں۔ معدنیاتی زون چھوٹے روزنو ں کی ایک بڑی تعداد کے علاوہ تقریباً 40 فٹ چوڑا ہوتا ہے۔ داؤد خیل کے علاقے میں چار اہم ذخائر درج ذیل ہیں:• جبہ سے د و میل مغرب کی جانب
• خیر آباد کے شمال مشرق کی جانب ایک میل
• جبہ کے شمال مغرب میں آدھے میل کے فاصلہ پر
• خیبرآباد جبہ ٹریٹ پر جبہ سے شمال مغرب ایک سے دو میل کی جانب
چاک |
اوپر جائیں |
چاک سفید سے لے کر بھوری رنگت کا حامل سمندری چونے کاپتھر ہوتا ہے۔یہ تقریباً مکمل طور پر بائیو کیمیکل طور پرحاصل کردہ کیلسائٹ (جو کہ بنیادی طور پر گہرے پانیوں میں جمع ہوے پودوں اور جانوروں بالخصوص مہین گول یا بیضوی نامیاتی اجرام اوریک خلیہ جاتی سمندری جاندار، بہت چھوٹے سمندری جانوروں کے باقی ماندہ اجزا اور ٹیکسٹالر سے تشکیل پاتے ہیں) پر مشتمل ہوتا ہے۔ چونے کے پتھر کی ایک قسم جو پیلاجک یا فلوٹنگ بحری حیاتیات سے بنتی ہے بہت باریک دانے دار، مسام دار اوربھربھری ہوتی ہے۔ یہ تقریباً مکمل طور پر کیلسائٹ پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ چٹان مائیکرو جانداروں کے کیلسائٹ شولز سے بنی ہے جو جزوی طور پر بے ساختہ کیلسائٹ کے ذریعے ڈھکی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ کچھ سپنج اور ریڈیو لاویا کی باقیات بھی موجود ہیں۔ کچھ چاک میں، مائکرو حیاتیات کی باقیات چٹانوں کے ایک تہائی سے زیادہ پر مشتمل ہوتی ہیں۔
استعمالات
چاک سیمنٹ، پاؤڈرز (نرمی سے کھرچنے اور پالش کرنے کے طور پر) رنگین مومی پنسل اور کھادوں کیلئے استعمال ہوتا ہے
ذخائر
چاک کے ذخائربنیادی طور پر راولپنڈی، چکوال، خوشاب، میانوالی، ڈی جی خان اور راجن پور کے اضلاع میں پائے جانےوالے چونے کے پتھر میں پائے جاتے ہیں-
چائنہ مٹی |
اوپر جائیں |
چائنہ مٹی چینی کے برتن بنانے والی کیلون، ہیلوسائٹ اور دیگر اسی طرح کی مٹی پر مشتمل ہوتی ہے۔یہ مٹی کی قسم کی ایک معدنیات ہے۔کیلون مٹی برف سے پگھل کر بننے والی تہہ دار چٹانوں کے بقایا موسمی ذخائر کی ہائیڈرو تھرمل آلٹریشن سے وجود میں آتی ہے۔
استعمالات
یہ پیپر کی صنعت، سرامکس، ریفریکٹریز، قدرتی اورکیمیائی ربڑ تیار کرنے والی انڈسٹری، پینٹ اور سیاہی، پلاسٹک اور کیڑے مار ادویات کی تیاری میں استعمال ہوتا ہے۔
ذخائر
پنجاب میں اس کے ذخائر ڈسٹرکٹ چکوال، خوشاب، میانوالی، اٹک اور ڈی جی خان میں پائے جاتے ہیں
کوئلہ |
اوپر جائیں |
کوئلہ بھورے سے سیاہ رنگ کے جنگلاتی پودوں جوقدرتاًابتدائی طور پر تہہ دار چٹانوں میں جمع ہوتے رہے کا عام نام ہے۔ تدفین اور اس کے بعد کے ارضیاتی عمل کے ذریعے، کوئلہ آہستہ آہستہ کمپریسڈ، انڈیوریٹڈ اور آخر میں گریفائٹ یا گریفائٹ جیسے مواد میں تبدیل ہوتا ہے۔
استعمالات
کوئلہ مختلف مقاصد کے تحت استعمال ہو سکتا ہے جن میں عمومی صنعت کے مقصد، بشمول لوہا اور سٹیل، اور کیمیکل انڈسٹریز، الیکٹریکل یوٹیلٹیز اور اس کے علاوہ یہ ریل گاڑی /سڑک کے ایندھن اور گھریلو مقاصد کیلئے بھی استعمال ہو سکتا ہے۔اس کا بنیادی استعمال اینٹوں کے بھٹوں، تھرمل پاور جنریشن، کھانا پکانے، گیس کی پیداوار لائم برننگ اور سیمنٹ و کوئلہ بریکٹ کی مینوفیکچرنگ کیساتھ ساتھ جننگ فیکٹریز وغیرہ میں بھی استعمال ہوتا ہے۔
ذخائر
پنجاب سالٹ رینج میں کوئلے کے وسیع ذخائر دریافت ہوئے۔کوئلے کے بنیادی ذخائر اٹک، جہلم، چکوال، خوشاب اور میانوالی میں دریافت ہوئے۔پنجاب میں کوئلے کی موٹائی عمومی طور پر چند سینٹی میٹرز سے 1.5میٹر تک ہے۔پنجاب میں پائے جانیوالا کوئلہ بہت بہتر کوالٹی کا حامل نہیں ہوتا ہے۔
کوئلے کے زیادہ تر ذخائر اور اس سے وابستہ کاربن کے حامل شیلزسالٹ رینج اور ٹرانس انڈس رینج (سرگھر رینج) کے اندر پیلیوسین دور کی پٹالہ فارمیشن اور ہنگو فارمیشن میں پائے جاتے ہیں۔یہ محدود حد تک پرمین دور کی ٹوبرا فارمیشن میں بھی دستیاب ہیں۔ پٹالا فارمیشن جس کی وسطی اور مشرقی سالٹ رینج میں کوئلے کے وسیع ذخائرموجود ہیں، گہری سرمئی،قدیم پرت چٹانوں جن کے وسط میں سفید کوارٹزوز ریت کے پتھر، سلٹ سٹون، مارل اور چونے کے پتھر شامل پر مشتمل ہے۔ ضلع میانوالی کے گاؤں بری خیل کے قریب مغربی سالٹ رینج میں پرمین کوئلے کے ذخائر عام طور پر ناقص معیار کے ہیں۔ مزید تلاش پر پنجاب کے میدانی علاقہ جات میں ممکنہ طور پر بہتر کوالٹی کا پرمین کوئلہ دریافت ہونے کے امکانات ہیں۔ درجہ بندی کے تحت پٹالہ فارمیشن مغرب کی جانب ہنگو فارمیشن کا حصہ ہے۔مکروال (ضلع میانوالی) اور ٹرانس انڈس رینج سے ملحقہ علاقوں کے قریب کوئلہ ہنگو فارمیشن سے ہی نکالا جاتا ہے۔ مکروال کے علاقے میں کوئلے کی موٹائی 2 فٹ سے 10 فٹ تک ہے۔مکروال کا کوئلہ سالٹ رینج کے کوئلے سے زیادہ بہتر اور شفاف ہے۔ اس کی مقیاس ِحرارت 9500 بی ٹی یو سے 11850 بی ٹی یو کے درمیان ہوتی ہے۔ کوئلے کے ذخائر کا تخمینہ تقریباً ایک ملین ٹن لگایاگیاہے۔
سالٹ رینج کوئلے کے ذخائر خوشاب کے شمال میں 12.5 میل سے لے کر کھیوڑہ کے شمال میں تقریباً 15 میل تک تقریباً 100 مربع میل کے علاقے تک پھیلے ہوئے ہیں۔ کوئلہ پٹالہ فارمیشن میں پایا جاتا ہے۔پورے سالٹ رینج میں چند انچ سے لے کر زیادہ سے زیادہ پانچ فٹ تک موٹائی کے حامل کوئلے کے ذخائر پائے جاتے ہیں۔یہاں راکھ اور سلفر کی وافر مقدار کاحامل انتہائی غیر مستحکم کوئلہ پایا جاتا ہے۔ بی ٹی یو میں اس کی مقیاس ِ حرارت7100 سے 11100 تک ہوتی ہے۔ ذخائر کا تخمینہ 75 ملین ٹن لگایا گیا ہے۔ ضلع جھنگ، بدھوانہ اور ضلع لیہ، کمیاب جہاں اے ایم او سی او (امریکی آئل کمپنی) نے تیل کی تلاش کا کام کیا تھا،میں کوئلے کی موجودگی کے قوی امکانات پائے جاتے ہیں۔ وفاقی حکومت سے حاصل کردہ معلومات کے مطابق بدھوانہ (جھنگ) میں 192 اور 637 فٹ گہرائی جبکہ کمیاب (لیہ) میں 296 فٹ گہرائی تک کوئلے کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔
میسرز پنجاب منرل ڈویلپمنٹ کارپوریشن نے مارچ 1980ء کو 3319.14ایکڑ رقبہ پر کوئلے کی تلاش مکمل کی۔یہ علاقہ مشرقاًو مغرباً 6.5 کلو میٹر لمبائی اور شمال و جنوب کی سمت ایک سے 3.5کلو میٹر تک مستطیل مگر غیر متوازی نوعیت کاحامل ہے۔ یہ علاقہ سنٹرل سالٹ رینج کے مشرقی حصہ کے طور پر سطح مرتفع منارا کہلاتا ہے۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف مائنز اینڈ منرلز کی جانب سے وسائل کی تلاش کیلئے ایک ڈویژن کا قیام عمل میں لایاگیا جس کے مطابق مذکورہ ڈویژن کا بنیادی مقصد پنجاب کے غیر دریافت شدہ علاقوں میں کام کرنا ہے۔ اس وقت ڈائریکٹر ریسورس میپنگ کے تحت مختلف طرح کی معدنیات کی تلاش کیلئے تین ایکسپلوریشن سکیمیں کام کر رہی ہیں۔بالخصوص مذکورہ علاقہ جات میں کوئلے کی ارضیاتی نقشہ سازی اور ڈریلنگ ہولز کے ذریعے تلاش کی جا رہی ہے۔
ڈولومیٹ(موتی بلور) |
اوپر جائیں |
خالص ڈولومیٹ (موتی بلور) میں کیلشیم کاربونیٹ اور میگنیشیم کاربونیٹ کی یکساں مقدار موجود ہوتی ہے۔تاہم قدرتی طو ر پر کیلشیم کاربونیٹ غالب اور ڈولومیٹ مٹی، ریت اور دیگر آلودگی کے حامل ہوتے ہیں۔ڈولومیٹ سفید سے سیاہ اور براؤن، لال او ر پیلے رنگ کے مختلف شیڈز میں ہوتے ہیں۔
استعمالات
ڈولومیٹ عمارتی سجاوٹ اور تزئین وآرائش کیلئے میگنیشیااورریفریکٹری کے وسیلہ کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔اسے زرعی کھادوں بالخصوص میگنیشیم کی کمی کی حامل اراضی، کرومیٹ مینوفیکچرنگ شوگر ریفائننگ میں استعمال ہوتا ہے۔
ذخائر
ذخائر
ضلع میانوالی کے اندر کالاباغ کے قریب اہم ترین کچ کے بربارا ذخائر شامل ہیں۔ ڈولومائٹ کے ذخائر دَتہ نالہ (مکروال سے تقریباً 11 کلومیٹر شمال مشرق) کے قریب بھی پائے جاتے ہیں۔ضلع میانوالی میں ڈویا لنڈا، نارمیا اور پنوں (ملا خیل کی کوئلے کی کانوں کے قریب) کے علاوہ بوری خیل کے قریب بھی یہ ذخائر پائے جاتے ہیں۔ ذخائر کی موٹائی 200 سے 300 فٹ تک ہے۔ ضلع میانوالی میں ڈولومائٹ کے ذخائر بنیادی طور پر ٹرائی ایسک دور کی کنگریالی فارمیشن میں پائے جاتے ہیں۔ ڈولومائٹ کے ذخائر پری کیمبرین دور کی سالٹ رینج فارمیشن اور کیمبرین دور کی جوٹانا فارمیشن کے علاقہ جات واگھ اور نیلہ واہن کے قریب پائے جاتے ہیں۔ ڈولومائٹ کے ذخائر ڈسٹرکٹ اٹک میں کنگریالی فارمیشن کے کالا چٹا رینج میں بھی دستیاب ہیں۔
آتشی مٹی |
اوپر جائیں |
فائر کلے یا پکی مٹی ایک ایسی مٹی ہے جو بغیر تحلیل یا لیسدار ہوئے زیادہ درجہ حرارت میں بھی قائم رہ سکتی ہے۔فلنٹ مٹی یا نان پلاسٹک فائر کلے (جو کہ بہت زیادہ سخت ہوتی ہیں) بنیادی طور پرمائیکرو کرسٹل لائن کلے چٹانیں ہیں جو کہ کائیولن پر مشتمل ہوتی ہیں۔
استعمالات
فائر کلے کا بنیادی استعمال گرمی کے خلاف مزاحمت ہے۔اس کے علاوہ یہ ہیوی منصوعات کی مینوفیکچرنگ، کیمیکلز، سیمنٹ اور پوٹری اور پتھر کی چیزیں بنانے کے کام آتا ہے۔
ذخائر
پنجاب میں فائر کلے کے ذخائر کی اہم لوکیشن میں ڈسٹرکٹ میانوالی میں چپری، ڈھوک پاس، موضع بزار، موسیٰ خیل، ڈسٹرکٹ خوشاب میں چم بل،پدھرا، ضلع چکوال میں کرولی، دلاول، منہالہ اور وہالی، ضلع جہلم میں کھیوڑہ، روہتاس، پونان وال اور تین پورہ، کھٹا سگھرل (ڈسٹرکٹ خوشاب) اور کالا چٹا رینج (باغ نیلاب ایریا، چوئی ایریا، سرگ ایریا، بوٹا ایریا، اخوری ایریا) شامل ہیں۔
فلر ارتھ |
اوپر جائیں |
یہ زمین سے مشابہ مٹی ہے، لیکن اس میں پلاسٹک سٹی یعنی ڈھلنے کی صلاحیت کم اور پانی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ اس میں میگنیشیا کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اور رنگ کو برقرار رکھتے ہوئے تیل اور چربی کو صاف کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔
استعمالات
یہ پٹرولیم مصنوعات کو بے رنگ کرنے اور گھی و آئل انڈسٹری میں بلیچنگ کے مقصد کے تحت استعمال ہوتا ہے۔یہ پٹرولیم کے زیادہ وزنی اجزاء کے مالیکیولوں کو توڑ کر اُن سے کم وزنی مالیکیول حاصل کرنے، بطور ڈریلنگ مڈ، کیڑے مار ادویات میں بطور حل پذیر مادہ اور آئل گریس واٹر کے حصول کے کیمیائی عمل کی رفتار کو تیز کرنے کیلئے استعمال ہوتی ہے۔فلر ارتھ نہانے او ر کھانا پکانے کیلئے بھی استعمال ہوتی ہے۔
ذخائر
ذخائر
فلر ارتھ ڈسٹرکٹ ڈی جی خان میں عصر جدیدکی حامل سلیمان رینج کے علاوہ ڈومانڈا فارمیشن اور کبھی ڈرازینڈا فارمیشن میں واقع پائی جاتی ہے۔ اس کی تہہ کی موٹائی 0.25 میٹر سے لیکر 5 میٹر سے زیادہ تک ہوتی ہے۔ فلرارتھ کا ایک وسیع ذخیرہ ڈیرہ غازی خان میں پایا جاتا ہے۔اس کے اہم ذخائر روڈھو ذخائر ہیں جو تونسہ ٹاؤن کے شمال مغرب میں تونسہ۔کوٹ قیصرانی روڈھو ٹریک سے قابل رسائی ہیں۔ سانگھڑ اورسفید کوہ کے ذخائر تونسہ۔قیصرانی روڈھو ٹریک اور چوکر والا بستی روڈ کے ذریعے قابل رسائی ہیں۔ زندہ پیر کے ذخائر شادان لنڈ ریلوے اسٹیشن کے مغرب میں 18تا20 کلومیٹر سوری نالہ کے ذریعے قابل رسائی ہیں۔ دالانہ کے ذخائر (ڈی جی خان سے 15 کلومیٹر جنوب مغرب میں) اور راکھی گج کے ذخائر (ڈی جی خان سے 55 کلومیٹر جنوب مغرب میں راکھی گج کے قریب واقع ہے)میں پائے جاتے ہیں۔
جپسم |
اوپر جائیں |
جپسم کی اصطلاح یونانی لفظ ”جیپوز“ جس کے معانی چاک کے ہیں سے نکالی گئی۔جپسم کیلشیم کا ہائیڈریٹیڈسلفیٹ ہے۔جپسم عمومی طو ر پر پھٹنے کے قابل ٹیبولر یا پرزمیٹک کرسٹلز کی صورت میں ہوتا ہے: یہ ستون نما، دانے دار،برگدار یا یا بڑے پیمانے پر اراضی کی صورت میں ہوتا ہے۔ اس کی سختی دو اور مخصوص کشش سکل 2.2 تا 2.4ہوتی ہے۔ اس میں اکثر مٹی، ریت اورنامیاتی مادے مکس ہوتے ہیں۔
استعمالات
• جپسم کو متعدد کثیر الجہتی مقاصد کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے
• گراؤنڈ راک جپسم محدود حد تک بطور کھاد استعمال ہوتا ہے اور اسے لینڈ پلاسٹر بھی کہا جاتا ہے
• یہ جراثیم کش ادویات بنانے، شیشہ سازی اور چینی کی برتن سازی کیلئے قابل استعمال ہے
• سیمنٹ اوربھاری کھاد میں استعمال ہوتا ہے
• یہ مجسمہ سازی اور ڈیکوریشن کے مقاصد کو بھی پورا کرتا ہے
• یہ سستی جیولری اور مائیکرو سکوپس کیلئے بھی استعمال ہوتا ہے
• یہ فوڈ، ادویات اور پینٹس میں بھی استعمال ہوتا ہے
• یہ پلاسٹر آف پیرس اور کین اور پلاسٹر پرٹین کیلئے بھی استعمال ہوتا ہے
ذخائر
جپسم کے بنیادی ذخائر ڈیرہ غازی خان کے قبائلی علاقہ جات میں پائے جاتے ہیں۔ یہ ذخائر ڈیر ہ غازی خان کے مغرب میں کوہ سلمان کے دامن کی شمالاً جنوباً چوٹیوں میں پائے جاتے ہیں۔یہ ذخائر ہری مٹی اور عصر جدید کے چونے کے پتھروں سے مربوط 10سے 18 میٹرکی مضبوطی کے حامل ہوتے ہیں۔جپسم کے ذخائر ڈسٹرکٹ جہلم کی سائٹ رینج کے علاوہ چکوال، خوشاب اور میانوالی میں بھی پائے جاتے ہیں۔
خام لوہا |
اوپر جائیں |
حالانکہ آئرن متعدد معدنیات بشمول سلفائیڈز، آکسائیڈز،ہائیڈر آکسائیڈز، کاربونیٹس اور سلیکیٹ میں پایا جاتا ہے مگر آئرن کا موادہیمیٹائٹ، میگنیٹائٹ اور سائیڈرائٹ تک محدود ہے۔
استعمالات
لوہے کے خام ذخائر لوہا بنانے اور سٹیل سے لوہے کے مرکب بنانے کے کام آتا ہے
ذخائر
پاکستان کالا باغ میں خام لوہے کے وسیع ذخائرجبکہ ڈسٹرکٹ میانوالی سرگڑھ رینج اور سالٹ رینج میں سکیسر کے قریب کم درجہ کے لوہے کے ذخائر کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔میسرز پاکستان منرل ڈویلپمنٹ کارپوریشن کی جانب سے ماضی میں کالا باغ میں لوہے کے ذخائر پر قابل ذکر کام ہوا ہے۔خام لوہے کے ذخائر کریٹاسیئس عہد کی لم شیوال فارمیشن کے اوپر والے حصہ میں پائے جاتے ہیں۔یہ خام مال بطور مرکب کثیر تعداد میں مختلف طرح کے آئرن منرلز کا حامل ہونے کے ناطے بے قاعدہ نوعیت کا ہے۔منرالوجیکل کمپوزیشن میں خام مواد اپنی کیمیکل کمپوزیشن اور میٹا لورجیکل سازگاری کو کنٹرول کرتا ہے۔کالا باغ آئرن اوورکو منرالوجی کی بنیاد پر دو بڑی اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ اس میں کچ ٹائپ (چوموسائٹ۔سائیڈرائٹ)اور چیچالی ٹاپ (گلوکونائٹ۔سائیڈ رائٹ)شامل ہیں۔
تغیر پذیر قسم کے حامل خام مواد کے ذخائر چگلان اور ٹولامانگلی میں پائے جاتے ہیں۔چتروالہ فارمیشن کا بنیادی حصہ بالخصوص راکھی منھ(ڈسٹرکٹ ڈی جی خان) کے علاقہ میں فورٹ منرو کے میناروں کے مشرقی کنارے کے قریب لوہے کے خام مال کے ذخائرموجود ہیں۔یہ لوہا تہہ دار آئرن اوور کی صورت میں ڈی جی خان سے مغرب کی جانب53کلو میٹر پرواقع راکھی منھ (39 k-l)کے دامن میں مغرب کی طرف دو کلومیٹر میں پایا جاتا ہے۔آئرن اوور یعنی خام لوہے کے مزید ذخائر جھنگ ڈسٹرکٹ میں چنیوٹ ٹاؤن کے جنوب میں پائے جاتے ہیں۔خام لوہے کے ذخائر چنیوٹ ٹاؤن سے بہت قریب پائے جاتے ہیں اور وہاں تمام انفرسٹرکچر کی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔
لیٹائٹ (سرخ مٹی) |
اوپر جائیں |
لیٹائٹ کی اصطلاح سے مراد وہ سرخ مٹی ہے جو گرم مرطوب اور نیم مرطوب علاقوں میں معدنیات نکالنے اور ان کی ترسیل کے دوران چھوٹے چھوٹے ریت نما ریزوں کی صورت میں باقی رہ جاتی ہے۔ پاکستان میں لیٹائٹ کی اصطلاح پتلی نوعیت کے لیتھولوجک یونٹس ہیں جو بڑے پیمانے پر سرخ، سرخی مائل بھوری، جامنی سرخ اور سیاہ رنگی چکنی مٹی کی چٹانوں پر مبنی اور عام طور پر کھلی سطحوں پرتسلہ نما، اور مقامی طور پر پیسولائٹس،آؤلائٹس اورکنکریشن پر مشتمل ہوتے ہیں۔ آئرن اور ایلومینڈ کے آکسائیڈز اور ہائیڈرو آکسائیڈز کے علاوہ، ان میں سیلیکا اور معمولی ٹائیٹینیم یا دیگر آکسائیڈز کی قابل تعریف خصوصیات ہو سکتی ہیں۔
استعمالات
لیٹائٹ خام لوہے کے طور پر استعمال ہو سکتا ہے۔یہ سیمنٹ مینو فیکچرنگ انڈسٹری میں بطور فلکس بھی استعمال ہوتا ہے۔
ذخائر
فیروجینس پیسولائٹس لیٹائٹ عصر جدید کے چونا پتھر اور کریٹاسیس دور کے جیومل سینڈ سٹون کی درمیانی خلا میں بنتا اور ضلع راولپنڈی میں نکلسن کی یادگار (33ڈگری42 منٹ شمال اور 73ڈگری 04منٹ مغرب)کے درمیان پایا جاتا ہے۔ ان چٹانوں کی لمبائی 20 سے 2000 فٹ تک اور موٹائی میں 12 سے 100 فٹ تک ہوتی ہے۔ فیروجینس پیسولائٹس کلے لیٹائٹ 15 سے 25 فٹ تک موٹی ہوتی ہے۔ یہ ضلع اٹک کے علاقے سرج میں عصر جدید کے حامل چونے کے پتھر کے نیچے پائی جاتی ہے۔ ضلع اٹک کے گاؤں منگیوالی اور گکر کے قریب بھی لیٹائٹ کے ذخائر پائے جاتے ہیں۔
اسی ڈسٹرکٹ میں فیروجینس شیل پیسولیٹک مواد کی بے قاعدہ تہوں پر مشتمل ہیں، جس کی کل موٹائی 40 سے 50 فٹ ہے اور یہ کالا چٹا رینج میں کوٹو فارمیشن کے اوپری حصے میں پائی جاتی ہے۔اس کے مزید ذخائر باغ نیلاب،تانیوالہ مگر، گنجی بھل، مرزا، کاواہ، کھیرامار، جھلر، اور حسن ابدال کے قریب پائے جانے کی بھی اطلاع ہے۔
داؤد خیل کے قریب اور ضلع میانوالی میں پائی خیل کے مشرق میں تقریباً پانچ میل کے فاصلے پر زلوچ گھاٹی میں لیٹائٹ میٹریل نکلتا ہے۔ ضلع خوشاب کے اندر کٹھوائی کے جنوب میں I-1/2 میل کے قریب فیروجینس لیٹائٹ چٹان بھی پائی جاتی ہے۔ یہاں انفرادی نوعیت کی کم از کم پانچ اور متعددغیر معمولی ذخائر بھی موجود ہیں۔ جسامت کے لحاظ سے یہ ذخائر 380 فٹ لمبے، 87 فٹ چوڑے اور اوسطً15فٹ موٹائی کے حامل ہیں۔
چونے کا پتھر |
اوپر جائیں |
چونا پتھر ایک تہہ دار چٹان ہے۔یہ عمومی طور پر باقاعدہ تہوں میں پائے جاتے ہیں۔قدرتی طور پر نایاب کیلشیم کاربونیٹ کا حامل خالص چونا ایک محدود فاصلے پر حاصل کیا جا سکتا ہے۔ عام طور پر اس میں مٹی، ریت اور لوہے، ایلومینیم، میگنیشیم، سیلیکان، فاسفورس اور سلفر کے مرکبات بھی پائے جاتے ہیں۔
استعمالات
چونے کا پتھر چونے کی تیاری میں استعمال ہوتا ہے۔ یہ سیمنٹ کی صنعت کا اہم جزو ہے۔ یہ تعمیر ات، کیمیکل ورک اور شیشے کی صنعت میں بلاکس یا بحیثیت مجموعی بھی استعمال ہوتا ہے۔
ذخائر
صوبہ پنجاب بالخصوص سالٹ رینج ہلز، مارگلہ کی پہاڑیوں اور کوہ سلیمان کے ساتھ ساتھ ضلع اٹک میں مختلف خصوصیات کے حامل چونا پتھر کے بہت بڑے ذخائر موجود ہیں۔ڈسٹرکٹ ڈیر ہ غازی خان میں زندہ پیر کے علاقہ کے اندر تونسہ کینال بریج سے 16 کلو میٹر کی مسافت پر سوری نالہ میں چونا پتھر کے ذخائر پائے جاتے ہیں۔یہ ذخائر عصر جدید سے تعلق رکھتے ہیں۔ضلع اٹک، راولپنڈی، جہلم، چکوال، خوشاب اور میانوالی میں بھی چونے کے پتھر کے ذخائر وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ اس علاقے میں سامنے آنے والی مختلف فارمیشنز میں کاواگڑھ فارمیشن، سمانہ سک فارمیشن، شن۔ واری فارمیشن اور لنگڑیالی فارمیشن شامل ہیں۔ سمانہ سک فارمیشن، شن واری فارمیشن اور داتا فارمیشن کا چونا سیمنٹ بنانے کیلئے موزوں ثابت ہوا ہے جبکہ مارگلہ کا چونا سب سے سخت ہونے کی وجہ سے بنیادی طور پر سڑکوں کی تعمیر اور کنکریٹ کے کام میں استعمال ہوتا ہے۔
نمک کا پتھر |
اوپر جائیں |
نمک کا پتھر قدرتی طور پر پائے جانے والے نمک کے معدنی پہاڑوں کا کمرشل نام ہے جس کی کیمیائی ساخت سوڈیم کلورائیڈ ہے۔ یہ مائع سے بخارات میں تبدیل ہو جانے والی معدنیاتی کے اہم رکن میں سے ایک ہے۔ اِنہیں کیوبک سسٹم کے ذریعے صاف کیا جاتا ہے، کرسٹل عام طور پر کیوبز، آٹھ رخی ٹھوس شکل کے علاوہ ڈھانچہ نما یا ہوپر کی شکل میں ہوتے ہیں۔
استعمالات
نمک روزمرہ کے کھانے اور ڈیری کے مقاصدکے علاوہ گوشت اور مچھلی کی پیکنگ، سوڈیم اور اس کے مرکبات کی تیاری کے مختلف میٹالرجیکل طریقوں، چکنی مٹی سے برتن سازی، خام مال اور دھاتوں کو گلانے اور صاف کرنے،آئس کریم اور کولڈ سٹوریج، کینال فوڈ اور ادویات کی تیاری کیلئے بڑے پیمانے پر ضروری جزو کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔اندرونی طلب کی تکمیل کے بعد پتھر کا نمک ایکسپورٹ بھی کیا جاتا ہے۔
ذخائر
پنجاب میں نمک سالٹ رینج کے سلسلے کا حصہ بننے والی ڈھلانوں کی بنیاد کے قریب پایا جاتا ہے۔ یہ جپسم، این ہائیڈریٹ، ڈولومائٹ اور ریڈ مارل کے ساتھ مل کر بنتاہے۔ نمک کے پتھر پوری سالٹ رینج میں پائے جاتے ہیں۔ تاہم اس وقت نمک کے پتھر کی ضلع جہلم، چکوال، خوشاب اور میانوالی کے مختلف مقامات جیسے کہ کھیوڑہ، نور پور، جٹانہ، وڑچھہ، بیٹ میچ، چکی واہن، دوداھ واہنم، گولیوالی اور کالاباغ میں بڑے پیمانے پر کان کنی کی جا رہی ہے۔ نمک کی کان کنی میسرز پاکستان منرل ڈویلپمنٹ کارپوریشن، میسرزپنجاب منرل ڈویلپمنٹ کارپوریشن اور کچھ نجی پارٹیاں کر رہی ہیں۔ سالٹ رینج کے راک سالٹ کے علاوہ ضلع رحیم یار خان کی مختلف نمکین جھیلوں سے شمسی بخارات کے ذریعے جھیل کا نمک بھی برآمد کیا جا رہا ہے جو بنیادی طور پر دباغت اور ریفریجریشن کے مقاصد کیلئے استعمال ہوتا ہے۔
سیلیکا ریت |
اوپر جائیں |
سیلیکا ریت کو سیلیکا اسی لئے کہا جاتا ہے کہ اس میں 93 فیصد SiO2پایا جاتا ہے۔اس میں سوڈے او ر چونے کی خفیف مقدار بھی ہوتی ہے۔اس میں آئرن اور ایلومنیاملاوٹ کے طور پر پائے جاتے ہیں۔اس کے گرین کا سائز 0.06اور2.00ہوتا ہے۔(20-100 میش)۔
استعمالات
سیلیکا ریت 5000سالوں سے شیشہ گری کیلئے استعمال ہورہی ہے۔ یہ ایبریسیو گلاس اور کیمیکلز، میٹالیورجیکل اور ریفریکٹری مقاصد کیلئے بھی استعمال ہوتی ہے۔
ریگ مال
-
• بلاسٹنگ ریت: (اس کیلئے قریبی سائز کی کوارٹج ریت کی ضرورت ہے)۔ میٹل کاسٹنگ کی صفائی، زنگ اور پینٹ کو ہٹانے کیلئے
• گلاس پیسنے والی ریت (اس کیلئے درمیانی سے باریک دانے والی خالص سیلیکا ریت درکار ہے)
• پتھر کی کٹائی اور رگڑ ریت (اس کیلئے موٹے دانے والی اچھی طرح سے چھانٹی ہوئی خالص سیلیکا ریت کی ضرورت ہے)
گلاس کیمیکل
-
• یہ شیشہ سازی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ریت کے گرینز ایون سائز اور 20سے 100 میش کی رینج کے حامل ہونے چاہئیں۔
• سیلیکا کا میٹالرجیکل استعمال سیلیکان مرکب کی تیاری میں ایک جزو اور عنصری فاسفورس کی تیاری میں ایک فلکس کے طور پر ہوتا ہے۔
• صنعتی سیلیکا کے ریفریکٹری استعمال میں فاؤنڈری مولڈنگ کے مقاصد کیلئے ریت، سٹیل کی بھٹیوں میں بطور لائنر اور سپر ڈیوٹی ایسڈ ریفریکٹرپراڈکٹ کی مینوفیکچرنگ میں بطور لائنر استعمال ہوتا ہے۔
ذخائر
سیلیکا ریت کے بنیادی ذخائرمیں ندی یا دریا، سمندر اور جھیل، برف کی پگھلتی چٹانیں اورآبی باقیات شامل ہیں۔ ہوا سے چلنے والے ذخائر نسبتاً معمولی اہمیت کے حامل ہیں۔ سیلیکا ریت کے ذخائر ساخت، موٹائی، فضائی حد اور شکل میں بہت مختلف ہوتے ہیں۔ پنجاب میں اچھے معیار کے سیلیکا ریت کے ذخائر مغربی سالٹ رینج اور ٹرانس انڈس رینج یعنی ضلع میانوالی میں سرگر رینج اور کھیسور رینج میں پائے جاتے ہیں، ارضیاتی طور پر یہ ذخائر جراسک دور کی داتا فارمیشن سے منسلک ہیں۔خاص طور پر سرگر رینج میں پائے جانے والے ذخائر ہر قسم کے شیشے کی تیاری کیلئے موزوں سمجھے جاتے ہیں۔ سرگر رینج میں رکھی گئی سیلیکا ریت کیپری گاؤں سے ملہ خیل تک مشرق و مغرب کے پہاڑوں کے ساتھ ساتھ چلتی ہے۔ سیلیکا ریت کے ذخائر مغربی سالٹ رینج میں موضع بازار سے کالا باغ (ضلع میانوالی) تک کسی مقام پر پائے جاتے ہیں۔ یہ ذخائر داتا فارمیشن سے بھی وابستہ ہیں۔ یہ ذخائرغیر موزوں ہونے کی وجہ سے کم اقتصادی اہمیت کے حامل ہیں۔