درج ذیل اقدامات نہ صرف معاشی /اقتصادی فوائد اور ترقی کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے بلکہ اِن سے شفافیت اورایماندارانہ نظام کی یقین دہانی، مساوی مواقعوں کی فراہمی، صنعت کاری میں اضافہ، زیادہ سے زیادہ صلاحیت کے ادراک اور ملازمتوں کو بھی فروغ ملے گا۔
-
محصولات کے اہداف میں اضافہ :
معاشی سست روی اور طلب میں کمی کی وجہ سے صنعت میں معدنیات کی بہت کم کھپت کے باوجودمبلغ 12بلین کے ہدف کے مقابلہ میں مبلغ 14بلین روپے کی محصولات وصول کی گئیں۔
-
آڑی ترچھی نمک کی چٹانوں کے حوالے سے پالیسی سازی کی تکمیل:
سالٹ بیسڈ انڈسٹریل یونٹس کی تنصیب کے مقصد کیساتھ، قواعد ایضاً کے قاعدہ 24 کے تحت دی جانے والی درخواستوں پر تقریباً100,000 ایکڑ رقبہ پر وسیع پیمانے کی کان کنی کے لئے جولائی 2020ء سے اب تک 56 ایکسپلوریشن لائسنس (32مختص کردہ اور 24 پیشکش کے مراحل میں) جاری کئے جا چکے ہیں۔بعد ازاں راک سالٹ پالیسی اور ترمیم شدہ راک سالڈ پالیسی کو اُ س وقت کی کابینہ نے منظور کیا اور بالترتیب مورخہ 18 اگست 2022ء اور 06 جنوری 2023ء کو نامزد کیا گیا۔ ان دوہری پالیسیوں کے ذریعے صنعتی یونٹس کی تنصیب کی لازمی شرط کو ختم کر دیا گیا اور ماضی کے لائسنس دہندگان /کرایہ داران کو اجازت دی گئی کہ وہ ملکی یا بین الاقوامی منڈیوں میں کسی بھی معیار یا مقدار کا راک سائٹ تیار اور فروخت کر سکیں۔بنیادی طور پر ان پالیسیوں کے ذریعے 56 ایکسپلوریشن لائسنسوں کی شرائط و ضوابط کو سابقہ تناظر کے تحت تبدیل کیاگیااور عوامی خزانہ کو بڑے نقصان سے بچانے کیلئے غیر قانونی رعایت دی گئی، مذکورہ بالا زیر بحث راک سالٹ پالیسیوں کی منسوخی کے سلسلے میں وزیر اعلیٰ پنجاب کیلئے انتظامی محکمہ کی جانب سے ایک سمری تیار کی گئی اور اُسے معزز کابینہ کے سامنے پیش کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کی منظوری کے مطابق اس معاملے پر غور خوض کیا گیا اور مورخہ 11اپریل 2022ء کو کیبنٹ کے نویں اجلاس میں منظوری دی گئی۔ کابینہ اجلاس کے نکات کی وصولی کے بعد آڑی ترچھی نمک کی چٹانوں کے حوالے سے بنائی جانے والی پالیسیوں بحوالہ نوٹس بتاریخ 24مارچ 2023ء منسوخ /مستردکر دیا گیا۔
-
سرمایہ کاری کی تجاویز
سعودی کمپنی مادان کیلئے چنیوٹ میں سٹیل مل کے قیام کے سلسلے میں فیڈرل بورڈ آف انوسٹمنٹ کے ساتھ 1.3بلین امریکی ڈالرز کے لاگت پر مبنی پروپوزل شیئر کیا گیا۔اس مد میں عالمی سطح کی اخراجاتی، تخمینہ جاتی رپورٹ اور کاروباری طریقہ کار اور معیارات وغیرہ مکمل کئے جا چکے ہیں۔ یہ منصوبہ 250ملین ٹن خام لوہے کے بہترین استعمال کو یقینی بناتے ہوئے درآمدی متبادل کیلئے بہت مفید ثابت ہوگا۔ اس سلسلے میں فرنٹیر ورکرز آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) اور فوجی فاؤنڈیشن کیساتھ بھی تبادلہ کیا جا رہا ہے۔
-
درخواستوں کے ذریعے گرانٹ دینے کی بجائے نیلام عام(اوپن کمپیٹیشن) کا انعقاد:
کچھ معدنیات نیلام عام کی بجائے درخواستوں کے ذریعے دی جا تی رہیں۔ پراسپیکٹنگ لائسنس دینے کی درخواستیں سال 2001ء سے زیر التواء تھیں۔ درخواست کے تحت کچھ معدنیات کی فراہمی میں صوابدید اور بدعنوانی شامل ہے۔ اس سلسلے میں احکامات جاری کئے گئے اوردرخواستوں کے ذریعے تمام معاہدوں کو روک دیا گیا اوراس کی بجائے صرف اور صرف سب سے زیادہ بولی دینے والے کو کھلے مقابلہ کے تحت ٹھیکے دینا شروع کئے گئے۔ اس اقدام کے تحت سینکڑوں زون جو کئی دہائیوں سے خالی پڑے تھے کھلی نیلامی میں ڈالے جا رہے ہیں موصول ہونے والی بولیوں کے حساب سے اربوں روپے سرکاری خزانے میں ڈالے جا رہے ہیں۔
-
بدعنوانیت نا قابل قبول، نا قابل برداشت :
ای کو ریفرنس بھجوائے گئے اور ڈیفالٹر کنٹریکٹرز کو تقریباً مبلغ 660 ملین کی سیکورٹیز اور بڈ منی واپس کرنے کیلئے سابقہ سیکرٹریز /ڈی جیز کی جانب سے دئیے جانے والے غیر قانونی احکامات کے خلاف محکمانہ کارروائی کا آغاز کیا گیا۔ تحریری درخواست دائر کی گئی اور سابقہ حکام کی جانب سے مبلغ 300ملین کی سیکورٹیز کی واپسی کیلئے غیر قانونی احکامات کے خلاف سٹے آرڈر لیا گیا۔گزشتہ پانچ سالوں میں تمام لیزوں کیلئے ایک منصوبہ بندخصوصی آڈٹ غبن کا پتہ لگانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
- اس مقصد کے حصول کیلئے اہم عہدوں سے بد عنوان عناصر کو فارغ کر کے صادق اور امین افسران تعینات کئے گئے۔ منظوری کی سطح پر ”کمیشن“ کے نظام کا مؤثر طور پر خاتمہ یقینی بنایا گیا۔ اے سی
- چونا پتھر، آرگیلیشیزمٹی اور نمک کی چٹانوں پر رائلٹی میں اضافہ کے نتیجہ میں مبلغ 4بلین روپے سالانہ کی اجازت جاری کی گئی جس کا حتمی مصنوعات کی قیمتوں پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا
- تمام تر معدنیات بشمول سونا اور قیمتی نوادرات وغیرہ پر فی ٹن صرف مبلغ 5 روپے کے ایکسائز ڈیوٹی ریٹ کو بڑھانے کیلئے ایکسائز ڈیوٹی ایکٹ کوصوبائی دہارے میں لایا گیا اور اس میں ترمیم کی گئی۔ اس اقدام سے سالانہ بنیادوں پر بلین روپوں کا فائدہ حاصل ہوا۔
- نمک کی چٹانوں کے ذخائر پر مبنی تقریباً 29ہزار ایکڑ رقبہ کی نشاندہی کی گئی۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اگر ان علاقوں کے لائسنس نیلام کئے جائیں تو تقریباً بولی کی مد میں 3بلین روپے اور رائلٹی کی سالانہ ادائیگی متوقع ہے۔
- طویل عرصہ سے خالی پڑی ہوئی غیر استعمال شدہ رقبہ جات کی نشاندہی کی گئی، شرائط و ضوابط کی منظوری دی گئی اور ضلع اٹک کے لائم سٹون بلاکس کی مبلغ 1.5بلین روپوں کی مجموعی پیشکش اور سالانہ رائلٹی کی بنیاد پر نیلامی کا انعقاد کیا گیا۔ یہ مشق جاری ہے۔
- زیر زمین پانی میں ڈوبے ہونے کی وجہ سے سرگودھا میں سینڈ سٹون کی درجنوں قیمتی کانیں اپنی قدر کھو چکی ہیں۔ اس مسئلہ کا حل نکانے کیلئے تخمینہ جاتی مطالعہ کیا گیا جس میں پانی کو قریبی چینل تک نکالنے کیلئے ڈرین بنانے پر زور دیا گیا۔ اس منصوبے کی تکمیل کے بعد مائن سائٹس اپنی قدر دوبارہ حاصل کریں گی اور اگلے 10سالوں تک ہر سال 2ارب روپے اضافی حاصل ہو سکیں گے۔
- جیولاجیکل سروے آف پاکستان (جی ایس پی) کے تحت دریائے سندھ ضلع اٹک میں پلیسر گولڈ کا تخمینہ جاتی مطالعہ کروایا گیاجس کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہوئے۔ حتمی رپورٹ جمع کروانے کے بعد پلیسر گولڈ کے کھدائی احاطوں کو نیلام عام کے ذریعے نیلام کیا جائے گا جس سے اربوں روپوں کی پیشکش مالیت اور سالانہ رائلٹی کی آمدن میسر ہو گی۔ اس کے علاوہ کوہ سلیمان رینج، ڈی جی خان ڈویژن میں کوئلے، خام لوہے، چونے کے پتھر اور دیگر صنعتی معدنیات کی ممکنہ تشخیص کیلئے تخمینہ جاتی مطالعہ کیا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں نیلامیوں کیلئے رقبہ کا دائرہ بڑھایا جا سکے۔
- کاروباری آسانی کیلئے بروقت نگرانی، آٹو میشن /ڈیجیٹائزیشن: اس سلسلے میں آن لائن منرل کیڈسٹر سسٹم کے پہلے ورژن کو فعال کیا گیا۔جیوگرافک انفارمیشن سسٹم پر کھدائی یا مائیننگ کیلئے تفویض کردہ اور خالی پڑے رقبے کے اعداد و شمار کو شامل کیا گیا۔ اس میں دئیے جانے والے لائسنس کی اقسام، معاہدہ کے آغاز و اختتام کی تواریخ وغیرہ بھی شامل کی گئیں۔ معدنیات کے لحاظ سے رعایت، ضلعی /علاقائی لحاظ سے اعداد و شمار بنائے گئے۔ فیس اور درخواستوں وغیرہ کی آن لائن ادائیگی پر کام کیا گیا۔کارٹلائزیشن اور پولنگ کو روکنے کیلئے ای آکشن ماڈیول پر کام کیا گیا۔ لیزز/مائینز کی رجسٹریشن اور جیو ٹیگنگ کی گئی۔ مائینز انسپکشن ماڈیول بنایا گیا۔ معائنہ کے نظام کو ڈیجیٹل بنانے کیلئے فیلڈ افسران کیلئے درخواستیں تیار کی گئیں۔ ادائیگیوں سے متعلقہ چالانوں کو ڈیجیٹل کیا گیا۔ حادثات و سانحات کی رپورٹوں کو جمع کروانے کا طریقہ کار وضح کیا گیا۔ مجموعی طور پر انسپکٹرز گریڈنگ ماڈیول اور ٹوور روسٹر ماڈیول تیار کیاگیا۔ شرائط و ضوابط اور حفاظتی اقدامات پر زور دیا گیا۔
- علاقائی اجارہ داریوں کو توڑنے کی بھر پو ر کوشش: اس ضمن میں سرگودھا کے اندر3.5ارب روپے کی نیلامی کے خلاف سٹے آرڈر کے طور پر وقفہ لیا گیا۔ پولنگ سے بچنے کیلئے رجسٹرڈ پیشکش دہندگان کے حوالے سے رازداری کا طریقہ کار اپنایا گیا۔ کچھ مثالی نوعیت کی نیلامیاں کی گئیں جس کی وجہ سے 1.71 بلین روپے کی پچھلی مجموعی بولیوں کے مقابلے میں 4.4بلین کی مجموعی بولیاں موصول ہوئی ہیں۔ مضبوط بزنس پلان کی تیاری اور علاقائی اجارہ داریوں کو توڑنے کیلئے اربوں روپے کے خالی بلاکس میں پنجمن کا استعمال جاری ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کے تحت ای آکشن کے نظام پر کام جاری ہے۔
- سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بڑھانے کیلئے انفراسٹرکچر کی ترقی:کانوں کے نزدیک ریسکیو دفاتر کا قیام اور بہتری کے علاوہ سہولیات کیلئے سولرائزیشن اور کارکنان کی بہبودکے حوالے سے سکیمیں تشکیل دی گئیں۔
- قوانین /قواعد پر نظر ثانی: اس ضمن میں قوانین و قواعد و ضوابط میں کسی بھی قسم کے ابہام کو ختم کرنے کیلئے اِنہیں مزید تفصیلاتی، شفاف، مقابلہ جاتی اور سرمایہ کار دوست بنایا گیا۔
- نقصانات سے بچنے اور عدالتی مقدمات کو مؤثر طور پر نمٹانے کیلئے تفصیلی ایس او پیز وضع کی گئیں۔ معدنیات کی چوری کو مؤثر طریقے سے روکنے اور مجرموں سے اس کے نتیجہ میں ہونے والے نقصان کی وصولی کو یقینی بنانے کیلئے ایس او پیز وضع کی گئیں۔
- عرصہ دراز سے التواء کے شکار صوبے بھر کے 250سے زائد زونوں کی نیلامی کیلئے این او سیز کی منظوری دی گئی۔
- تقریباً 7ارب روپے کی طویل المیاد رقوم کی واپسی کے مرحلے کا آغاز۔
- بندش کی مدت کے دوران محکمہ آبپاشی کے تحت نہروں میں عام ریت کی غیر مجاز کان کنی کی وجہ سے خزانے میں بھاری نقصان کی نشاندہی کی گئی۔مائینز ڈیپارٹمنٹ کو نہروں سے عام ریت کی کھدائی کے حقوق کی نیلامی کرنے کی اجازت دینے کے لئے سمری تیاری کی جاریہ ہے جس سے ایک طرف محکمہ آبپاشی کے سرکاری خزانے سے ہونے والے اخراجات کو روکا جا ئے گا اور دوسری طرف سالانہ بنیادوں پر اربوں روپے کی آمدنی بھی ممکن ہوگی۔
- معدنیات کے حامل ایسے خالی رقبہ جات جہاں سالانہ بنیادوں پر زرمبادلہ کمانے کی گنجائش ہو کی نشاندہی کی گئی۔ اس سلسلے میں شرائط و ضوابط، مقررہ قیمتوں اور این او سیز کو حتمی شکل دی جا رہی ہے جس سے سالانہ بنیادوں پر اضافی اربوں روپے اور رائلٹی حاصل ہوگی۔
- نئی نیلامی کی تواریخ کے قریب توسیعی زونوں کے ابتدائی طریقہ کار میں بدعنوانی کے عناصر کو روکنے کیلئے احکامات جاری کئے گئے اور اس کے بجائے تازہ ترین زیادہ ریٹس لینے کیلئے اسی کی نیلامی دوبارہ کی گئی۔
- محکمہ کی جانب سے ہمالیہ پنجاب پاکستان میں گلابی نمک کی چٹانوں کیلئے جیوگرافیکل انڈیکیشن(جی آئی) کے حصول کی خاطر کوششوں کا آغاز کیا گیا۔
- وزیر اعلیٰ پنجاب کی خواہشات کے مطابق مذکورہ بالا اصلاحات کے مکمل اثرات آئندہ مالی سال میں محسوس کئے جائیں گے اور سالانہ دوہرے سے زائد ہدف حاصل کیا جا سکے گا۔