امور و فرائض

محکمہ کان کنی و معدنیات گرانٹ، سروے، معدنی وسائل کی تلاش اور پیداوار کے علاوہ کان کنی کے ٹھیکیداروں سے کرایہ، رائلٹی اور فیس کی وصولیوں کا ذمہ دار ہے۔اس کے علاوہ ادارہ ہٰذا کی دیگر ذمہ داریوں میں کان کنی کے علاقہ جات میں انفراسٹرکچر کی بہتری بشمول مائن ورکرز کا تحفظ، اُن کی صحت کا خیال اور بہبود شامل ہیں۔

ڈائریکٹوریٹ جنرل کان کنی و معدنیات

ڈائریکٹو ریٹ جنرل کان کنی و معدنیات ، ریگولیشن آف مائینز اینڈ آئل فیلڈز اینڈ منرلز ڈویلپمنٹ (گورنمنٹ کنٹرول) ایکٹ 1948 ء اور اس کے تحت تشکیل کردہ پنجاب کان کنی مراعاتی قوانین 2002ء (پی ایم سی رولز 2002ء) کے مطابق معدنیات کی تلاش اورکھدائی کیلئے لائسنس اور /معاہدہ جات جاری کرتا ہے۔

چیف انسپکٹوریٹ کان کنی

چیف انسپکٹر مائینز(سی آئی ایم) مائینز ایکٹ 1923 ء اور اس کے ماتحت تشکیل دئیے جانے والے رولز اینڈ ریگولیشنز کے مطابق کان کنی کی سرگرمیاں کرنیوالے مزدوروں کے تحفظ، صحت اور بہبودکا ذمہ دار ہے۔چیف انسپکٹوریٹ

مائنز لیبر ویلفیئر آرگنائزیشن 

جو کہ ایکسائز ڈیوٹی آن منرلز لیبر ویلفیئر ایکٹ 1967 ء کے تحت قائم کی گئی اورجس کے مطابق کان کنی کی صنعت  کے مزدور ملازمین کی فلاحی و بہبود کے اقدامات میں تیزی کیلئے قوانین وضع کئے گئے کا سربراہ ہے-

پنجاب منرلز ڈویلپمنٹ کارپوریشن

پنجمن ”پنجاب منرلز ڈویلپمنٹ کارپوریشن ایکٹ 1975 ء کے تحت سن 1975 ء میں قائم کی گئی۔اس کارپوریشن کے تمام انتظامی امور اور معاملات وغیرہ بورڈ آف ڈائریکٹرز دیکھتے ہیں۔پنجاب منرل ڈویلپمنٹ کارپوریشن ایکٹ 1975 ء کے مطابق پنجمن کے بنیادی امور میں سرو ے کیلئے سکیموں کی حد بندی، تحریری دستاویزات کی تیاری، تلاش، ڈویلپمنٹ اور مائیننگ، معدنیات کی پیداوار اور فروخت بشمول درآمد و برآمد، رابطے میں بہتری، پانی کی فراہمی، توانائی اور مائیننگ کے دیگر ذیلی معاملات مع براہ راست اس کے تحت آنے والے پراجیکٹوں کی تعمیر، انتظام اور اُنہیں چلانا شامل ہے۔

 پنجاب منرل کمپنی

پی ایم سی مکمل طور پر پنجاب حکومت کے ماتحت اورمائینز اینڈ منرلز ڈیپارٹمنٹ کے ایڈمنسٹریٹیو کنٹرول کے تحت کام کر رہی ہے۔کمپنی کا قیام پنجاب میں معدنیات کے فروغ، تلاش، ترقی اور معاشی مواقعوں کی فراہمی کیلئے عمل میں لایا گیا۔یہ حکومت کے علاوہ نجی سیکٹر کی جانب سے تعینات کردہ بورڈ آف ڈائریکٹرزکے زیر انتظام ہے۔