ٹریننگ

یہ پراجیکٹ ڈائریکٹر کے زیر نگرانی 30 جون 1992 کو 25.130 ملین کی لاگت سے مکمل کیا گیا۔ ٹریننگ اسکول کی تربیت کا مقصد کان کنی کے شعبے میں سپروائزری پوزیشنز پر کام کرنے والے مختلف درجات کے کارکنان کو ملازمت سے قبل اور دوران  تربیت فراہم کرنا ہے۔ اسکول مجموعی طور پر مائن سپروائزری کورس کے لئے 20 طلباء کی گنجائش رکھتا ہے جن میں سے 10 سیٹیں مائن مکینیکل اور 10 الیکٹریکل کے لئے مختص کی گئیں۔
مارچ، 1987ء میں 20 طلباء پرمشتمل پہلے بیچ نے اس ادارے میں داخلہ لیا اور 3 سالہ ڈپلومہ مکمل کرنے کے بعد 1990 میں شعبہ معدنیات میں کام کرنے کے لئے دستیاب ہو چکا تھا۔ 1994ء میں 30 سیٹوں کے ساتھ اس کورس کا اسکوپ وسیع کر دیا گیا۔ 1990 میں 22 طلباء کے ساتھ کان کن کنی میں لینڈ اینڈ مائن سروےانگ (Land and Mine Surveying)  کی نئی ٹیکنالوجی متعارف کرائی گئی۔ اگست 2015ء کو 120 طلباء پر مشتمل 30 واں بیچ فارغ التحصیل ہوا جو پنجاب بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن، لاہور سے رجسٹر ہوا۔ اب تک ادارے سے 778 طلبا فارغ التحصیل ہو چکے ہیں اور مختلف اداروں میں اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔

اَعزازات

یہ پاکستنان میں درج ذیل فہرستوں میں 3 سالہ ووکیشنل ٹریننگ دینے والا واحد ادارہ ہے:
•    مائننگ ٹیکنالوجی
•    مکینیکل ٹیکنالوجی مائئنگ اسپیشلایزیشن کے ساتھ
•    ٹیکنیکل ٹیکنالوجی مائئنگ اسپیشلایزیشن کے ساتھ
•    لینڈ اینڈ مائن سروے انگ  ٹیکنالوجی

 

مائننگ ٹیکنالوجی
سروے انگ
مکینیکل ٹیکنالوجی الیکٹریکل ٹیکنالوجی  لینڈ سروے اینڈ مائن
مائننگ مشینری الیکٹریکل مینٹیننس  سروےانگ 
اَرضیات دھات کاری انڈسٹریل اکنامکس کوانٹیٹی سروے
مائن وینٹی لیشن ہائڈرولکس پاور جنریشن سول انجینئرنگ ڈرائنگ
مائن اکنامکس انڈسٹریل منیجمنٹ فلیم مشینری پروف کول/۔یٹل مائننگ
مائن سروےانگ تھرمو ڈائنامکس انڈسٹریل منیجمنٹ کمپیوٹڑ ٹیکنالوجی

ٹریننگ مائن، کٹاس

مائن سپروائزرزاورمائننگ ٹیکنیشنشز کے لئے چاؤ سیداں شاہ اور ضلع چکوال کی نگرانی ایک مائن منیجر کرتا ہے جس کے معاونت اسسٹنٹ مائن منیجر اور ورک شاپ انجبئیر کرتا ہے۔ یہ پراجیکٹ 34.263 ملین روپے کی لاگت سے 30 جون، 1993ء کو مکمل ہوا۔ ٹریننگ مائن کے قیام کا مقصد منرل سیکٹر کی ٹیکنالوجی کو تربیت یافتہ افرادی قوت کے ذریعے ممکنہ سپروائزرز کو کام کے حقیقی حالات میں عملی تربیت فراہم کرنا ہے۔
ٹریننگ مائن کے بڑے مقاصد درج ذیل ہیں:
•    ہنر مند اور تربیت یافتہ سپر وائزرز اورمائننگ ٹیکنیشنز کی فراہمی
•    بہتر تحفظ اور بالواسطہ پیداوار کو یقینی بنانے کے لئے بہتر اور کام کے محفوظ طریقہ کار
•    غیر محفوظ اور دقیانوسی طریقوں کی وجہ سے کان کنوں کی ضائع ہونے والی دولت کا تحفظ
•    حادثات کی تعداد میں کمی کے لئے اقدامات
•    کان کنوں کے مابین تحفظ سے متعلق اعتماد اور شعور کی بحالی
•    کان کنی کے خطرات سے آگاہی
•    کان کنی کے خطرات سے متعلق تجربات کیلئے سہولیات  کی فراہمی

مائن سروے اِنسٹیٹوٹ، مکروال، ضلع میاں والی

یہ ادارہ پرنسپل کے زیر نگرانی کام کرتا ہے۔ اس پراجیکٹ کی کل لاگت 4.225 ملین روپے تھی۔ ادارے کے بنیادی مقاصد درج ذیل ہیں:
•    قانونی سروے مسابقتی امتحان کے لئے انفراسٹرکچر کی فراہمی
•    فوری طور پر تربیت یافتہ مائن سروےائیرز  (Mine Surveyors)کی دستیابی
•    فرموں کو قانونی ضروریات کے مطابق مائن پلانز کو برقرار رکھنے میں معاونت کی فراہمی
•    کان کنوں اور منرلز کے تحفظ کے حوالے سے زیر زمین کام کے ماحول کی فراہمی میں بہتری

اعزاز

پاکستان کا واحد ادارہ جو مائن سروےانگ ٹیکنالوجی میں 2 سالہ ووکیشنل ٹریننگ فراہم کرتا ہے۔

بنیادی مضامین

•    سروےانگ
•    ارضیات
•    کان کنی
•    ریسکیو اور سیفٹی
•    ڈرائنگ

مائن سیمپل ٹیسٹنگ – ریسرچ

سینئر ریسرچ آفیسر، تعلیم یافتہ مائننگ انجینئر اور معاونت فراہم کرنے والے دو ریسرچ آفیسر کے زیر سرپرستی 'مائن سیمپل ٹیسٹنگ لیبارٹری، خوشاب' کے نام سے ایک لیبارٹری 1984 ء میں قائم کی گئی۔ یہ پراجیکٹ 30 جون  1984ء کو 3.978 ملین روپے کی لاگت سے مکمل ہوا۔ لیبارٹری کے بنیادی مقاصد کانوں سے لئے گئے نمونہ جات کو کانوں میں ممکنہ خطرات کے حوالے سے  ٹیسٹ اور تجزیہ کرنا اور درج ذیل امور کو یقینی بنانا ہے:
•    کانوں میں کام کے ماحول میں یکسانیت کا حصول
•    سیفٹی کے کم سے کم معیارات پر عمل درآمد
•    کام کے حالات میں بہتری
•    حادثات میں کمی کے ذریعے کارکنان میں اعتماد کی بحالی
•    پیشہ ورانہ بیماریوں کی تشخیص اور ان کا علاج